ملیر، مہنگائی نے عوام کی قمر توڑ دی

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) ضلع ملیر میں انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ میمن گوٹھ، گلشن حدید، پپری، گگھر، گڈاپ، کاٹھوڑ و دیگر علاقوں میں تاجروں نے اپنی مرضی کے دام لگا کر غریب محنت کشوں کو لوٹنا شروع کردیا ہے جبکہ روینیو افسران کی جانب سے لگائے جانے والے چھاپے اور جرمانے بھی بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں گذشتہ روز مختیار کار برکت کلہوڑو کی جانب سے میمن گوٹھ بازار میں اچانک دورہ کیا گیا۔ دکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ مہنگے دام چیزیں فروخت کرنے پر دکانداروں پر 20 ہزار کا جرمانہ عائد کیا گیا جس کے خلاف مختلف تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس کے باوجود تاجروں پر چھاپوں اور جرمانے کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ مذکورہ علاقوں میں عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگے دام فروخت ہونے لگی ہیں۔ فروٹ و سبزی سمیت چینی دالیں اور دیگر اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں جن میں کھجور 400، تربوز 50، زردہ 50، سیب 200 اور لیموں 500 روپے فروخت ہونے لگے ہیں۔
شہریوں اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک طرف لاک ڈاؤن تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب عوام کی قمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس موقع پر مختیار کار کا کہنا تھا کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر شکایات موصول ہو رہی ہیں جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار رہیں ہیں۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں دکانوں کو سیل کیا جائے گا۔ یوسی مراد میمن کے چئیرمین آفتاب میمن اور دیگر کا کہنا ہے کہ ملیر کے دیگر علاقوں کو چھاپوں سے استثنیٰ حاصل ہے۔ صرف مراد میمن میں کاروائی کی جارہی ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے ازالہ کیا جائے۔ روزانہ کی بنیاد پر چھاپوں کی بدولت میمن گوٹھ میں کاروبار تباہ ہو رہا ہے جبکہ تاجروں کا کہنا ہے کے مختیار کار میمن گوٹھ جان بوجھ کر میمن گوٹھ کے تاجروں کو نشانہ بنا کر روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ہم خود پریشانی سے دوچار ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث شہر کی منڈیاں بند ہونے کی وجہ سے مال مہنگے دام پر مل رہا جس کے باعث مہنگے دام چیزیں فروخت ہو رہی ہیں۔ ہمیں جیسے ہی مال سستے دام ملے گا تو ہم بھی سستے دام فروخت کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں