لاڑکانہ، عرضی بھٹو میں بچے کی پراسرار موت معمہ بن گئی

لاڑکانہ (نامہ نگار، نور احمد عباسی) عرضی بھٹو میں پولیس کی جانب سے 13 سالا نوجوان لڑکے کا مبینہ تعاقب کیا گیا۔ نوجوان دوڑتے دوڑے گھر کے قریب گر کر جاں بحق ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق غلام مصطفی نامی نوجوان کا پیٹرولنگ پولیس کی جانب سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر تعاقب کیا گیا۔ غلام مصطفیٰ دوڑتے دوڑتے گھر کے قریب گر کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعہ کے خلاف ورثاء کا شدید احتجاج۔انہوں نے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس موقع پر نوجوان کے والد میہر علی کاکہنا تھا کہ بیٹا گھر سے کھانا کھا کر باہر نکلا ۔ کچھ دیر بعد دوڑتا ہوا واپس آیا اور موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے پیٹرولنگ پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کو ہراساں کیا گیا جس کے نتیجے میں موت ہوئی ہے۔ بیٹے پر کوئی الزام تھا نہ کوئی کیس اور نہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ تھانہ علی گوہرآباد کی حدود میں پیش آیا تاہم گشت پر معمور پولیس تھانہ حیدری کی تھی جس کے بعد واقعہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ شہر کے حیدری تھانہ کی پولیس کی جانب سے علی گوہر آباد تھانہ کی حدود میں بچے کو کیوں حراساں کیا گیا؟ ذرائع کے مطابق حیدری تھانہ کے اہلکار نادر بھٹو اور کامران گاد گشت کررہے تھے جن کو ایس ایس پی کی جانب سے فوری طور پر معطل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا۔
ایس ایچ او تھانہ حیدری لیاقت کھجڑ کا کہنا ہے کہ بچہ محلے داروں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ گشت پر موجود اہلکاروں نے ڈانٹا۔ غلام مصطفٰی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانے دیا گیا، جسم پر چوٹ کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ بچے کو پولیس کی جانب سے حراساں کیا گیا، بھگایا اور لاٹھی ماری گئی۔ بچہ گرا اور تھڑے سے ٹکرا کر دل پھٹنے سے فوت ہو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں