ہانگ کانگ میں مظاہرے، پولیس سے جھڑپیں

ہانگ کانگ میں مظاہرین کے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ غیر ملکی میڈیا کےمطابق ہانگ کانگ کے برطانیہ سے آزادی کو 22 سال مکمل ہونے پر مظاہرین نے ریلی نکالی اور سرکاری عمارت میں بھی گھسنے کی کوشش کی۔ پرچم کشائی کی سالانہ تقریب کے مقام پر مظاہرین جمع ہوئے جس کے باعث پولیس نے مظاہرین کو آنسو گیس کے اسپرے اور لاٹھی چارج سے قابو کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ میں احتجاج کی تازہ لہر چین کو ملزمان کی حوالگی کے متنازع بل کا ہی تسلسل ہے جسے حکومت نے معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے تاہم مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ کانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سالانہ پرچم کشائی کی تقریب ہانگ کانگ کنونشن سینٹر میں رکھی گئی اور اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ حکام کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے بیریئرز لگا کر تقریب کے مقام پر جانے والے کئی راستے بلاک کردیے، تقریب سے کچھ دیر پہلے کنونشن سینٹر کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس اسپرے کا استعمال کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سر پر چوٹ آنے سے زخمی ہوئی۔ پولیس نے مظاہرین پر لوہے کے پائپ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر نامعلوم محلول بھی پھینکا گیا جس سے 13 پولیس اہلکار متاثر ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری عمارت کے باہر موجود مظاہرین نے شیشے کی کھڑی کو ٹرالی کی مدد سے توڑ دیا تاہم پولیس کی عمارت میں موجودگی کے باعث مظاہرین عمارت میں داخل نہ ہوسکے۔ پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے کہا کہ وہ عوام کو سننے کے لیے مزید وقت گزاریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سبق سیکھیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں حکومت کے کام عوام کے جذبات، نظریات اور تاثرات کے قریب تر ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں