روسی میزائل سسٹم خریدنے پر امریکا کاترکی کو ایف 35 فائٹر جیٹ پروگرام سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ

روسی میزائل سسٹم خریدنے پر امریکا نے ترکی کو ایف 35 فائٹر جیٹ پروگرام سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چند روز قبل ہی روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم کی پہلی کھیپ ترکی پہنچی تھی جس پر امریکا نے سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ روسی ساختہ ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا مطلب ہے کہ ترکی کو ایک بھی ایف 35 فائٹر جیٹ طیارہ خریدنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کی اعلیٰ عہدیدار ایلن لارڈ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایف 35 پروگرام میں شامل اتحادیوں نے ترکی کو اس پروگرام سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ترکی کو ایف 35 جیٹ طیاروں کے پروگرام سے علیحدہ کرنے کے باقاعدہ اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایلن لارڈ نے مزید بتایا کہ جدید فائٹر جیٹ طیاروں کی ترکی سے منتقلی پر امریکا کو 50 کروڑ سے 60 کروڑ ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی نے ایف 35 فائٹر طیاروں کے 900 سے زائد پارٹس تیار کرتا ہے لیکن اب تمام آلات کی تیاری ترکی کی فیکٹریوں سے امریکی فیکٹریوں میں منتقل کر دی جائے گی کیونکہ ترکی کو اس پروگرام سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ پینٹاگون عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایف 35 فائٹر جیٹ طیاروں سے علیحدگی کے بعد ترکی ناصرف ملازمتوں سے محروم ہو گا بلکہ اسے پراجیکٹ کے دوران ملنے والے 9 ارب ڈالرز بھی نہیں ملیں گے۔ وائٹ ہاؤس حکام کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ ترکی کو ایف 35 فائٹر جیٹ پروگرام میں شامل نہیں رکھ سکتے کیونکہ ایف 35 فائٹر جیٹ کا پروگرام روسی انٹیلی جینس کلیکشن پلیٹ فارم کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ترک وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام سے شراکت دار کو نکالنا انتہائی غیر منصفانہ فیصلہ ہے اور اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم امریکا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی اس غلطی کا ازالہ کرے جس سے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں